جمعرات 15 اکتوبر 2026 - 12:07
انصارالله کی مزاحمت اور استعمار کی طاقت/وسائل کے انبار، بموں کی بارش اور عالمی پشت پناہی بھی عزم کو شکست نہ دے سکے

حوزہ/ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انصار اللہ کے پاس کتنے میزائل ہیں یا اس کے مخالفین کے پاس کتنے طیارے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک غریب اور جنگ زدہ ملک کی ایک مقامی قوت نے اتنی بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اپنے وجود کو کیسے برقرار رکھا؟ اور کیوں برسوں کی جنگ اس تنازعے کا کوئی ایسا حل پیدا نہ کرسکی جس سے یمن کو حقیقی امن نصیب ہوتا؟

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے: طاقت ہمیشہ حق کی دلیل نہیں ہوتی، اور کمزوری ہمیشہ شکست کی علامت نہیں۔ کبھی ایک طرف دولت کے خزانے، جدید طیارے، میزائل، عالمی اتحاد اور سیاسی پشت پناہی ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسی قوم کھڑی ہوتی ہے جس کے پاس وسائل کم، مشکلات زیادہ اور قربانیاں بے شمار ہوتی ہیں؛ مگر اس کے اندر اپنی سرزمین، اپنی خودمختاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کا عزم زندہ رہتا ہے۔

یمن کی جنگ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک طرف انصار اللہ ہے، جس نے برسوں کی جنگ، فضائی حملوں، معاشی دباؤ اور سیاسی تنہائی کے باوجود اپنے زیرِ انتظام علاقوں پر اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہ، امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور مختلف علاقائی و عالمی قوتیں ہیں، جن کے مفادات کسی نہ کسی درجے میں یمن کے تنازعے سے وابستہ رہے ہیں۔ ان تمام فریقوں کی عسکری شرکت یکساں نہیں، لیکن ان کی پالیسیوں، اتحادوں اور مداخلتوں نے یمن کے بحران کو طویل اور پیچیدہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انصار اللہ کے پاس کتنے میزائل ہیں یا اس کے مخالفین کے پاس کتنے طیارے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک غریب اور جنگ زدہ ملک کی ایک مقامی قوت نے اتنی بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اپنے وجود کو کیسے برقرار رکھا؟ اور کیوں برسوں کی جنگ اس تنازعے کا کوئی ایسا حل پیدا نہ کرسکی جس سے یمن کو حقیقی امن نصیب ہوتا؟

انصار اللہ: کم وسائل، مگر بلند حوصلہ

انصار اللہ کی کہانی کو سمجھے بغیر یمن کی جنگ کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔ اس تحریک کا ابھار شمالی یمن کے زیدی مذہبی و سماجی ماحول میں ہوا۔ وقت کے ساتھ یہ ایک مقامی تحریک سے بڑھ کر ایک بڑی سیاسی و عسکری قوت بن گئی۔ 2014 میں اس نے صنعاء پر کنٹرول حاصل کیا اور 2015 میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کے بعد جنگ نے ایک نئے اور تباہ کن مرحلے میں قدم رکھا۔

اس کے بعد یمن پر فضائی حملے ہوئے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور لاکھوں لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہوئی۔ انصار اللہ کو ختم کرنے یا اس کی عسکری طاقت کو محدود کرنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے گئے، مگر وہ مکمل طور پر شکست نہیں کھا سکی۔

اس بقا کی ایک وجہ اس کی تنظیمی صلاحیت اور مقامی جغرافیے سے واقفیت ہے۔ پہاڑی علاقوں میں جنگ، منتشر دفاعی ڈھانچے اور میزائل و ڈرون کی صلاحیت نے اسے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور مخالفین کے لیے ایک مشکل حریف بنا دیا۔

لیکن اس کی کہانی کا اہم پہلو صرف عسکری نہیں، سیاسی بھی ہے۔ انصار اللہ اپنے وجود اور جدوجہد کو قومی خودمختاری، بیرونی مداخلت کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت جیسے موضوعات سے جوڑتی ہے۔ اس کے حامی اسے ایسی قوت سمجھتے ہیں جو بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مقابلہ کر رہی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اس کی مزاحمت کو سمجھنے اور اس کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت کرنے میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کسی تحریک کے عزم کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر فیصلے کو درست قرار دیا جائے۔ تاہم اس کے مخالفین کی عسکری برتری بھی اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ یمن کے عوام کو مسلسل جنگ کی آگ میں جھونک دیا جائے۔

انصار اللہ کی سب سے نمایاں کامیابی یہ ہے کہ اسے ختم کرنے کے خواہش مند فریق اب تک اسے یمن کی سیاست اور جنگ کے منظرنامے سے خارج نہیں کرسکے۔

درجنوں عالمی و علاقائی مفادات کے درمیان یمن

یمن کا بحران کسی ایک ملک کی کارروائی یا دو فریقوں کی دشمنی تک محدود نہیں۔ اس کے پس منظر میں علاقائی رقابت، بحیرۂ احمر کی اہمیت، خلیج عدن کے تجارتی راستے، توانائی کے مفادات، اسرائیل کی سلامتی اور بڑی طاقتوں کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی جیسے عوامل شامل ہیں۔

سعودی عرب کے لیے انصار اللہ ایک سرحدی اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے جنوبی یمن میں اپنے حمایت یافتہ سیاسی و عسکری گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور برطانیہ نے مختلف ادوار میں سعودی اتحاد کی حمایت کی اور بعد میں بحیرۂ احمر میں انصار اللہ کے حملوں کے جواب میں الگ فوجی کارروائیاں بھی کیں۔ اسرائیل نے بھی اپنے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں انصار اللہ کے زیرِ انتظام علاقوں کو نشانہ بنایا۔

انصار اللہ کے مخالفین کی صف میں صرف وہ ممالک شامل نہیں جو براہِ راست حملے کرتے ہیں۔ بعض ممالک دفاعی نظام، اسلحے، انٹیلی جنس، سفارتی حمایت یا فوجی رسد کے ذریعے بھی علاقائی طاقتوں کی مدد کرتے ہیں۔ پاکستان، ترکی اور فرانس کے بارے میں سامنے آنے والی دفاعی تعاون کی اطلاعات کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے، اگرچہ ان سب کی براہِ راست جنگی شرکت کو یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس کے علاوہ یمن کے اندر مختلف سیاسی اور مسلح گروہ بھی موجود ہیں۔ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں بھی اس بحران کے مختلف مراحل میں سرگرم رہی ہیں، مگر ان سب کو ایک ہی بیرونی اتحاد کا حصہ قرار دینے کے لیے الگ اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

اس پوری صورتِ حال میں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: یمن کی جنگ میں بیرونی طاقتوں کے مفادات اس قدر گہرے ہیں کہ اسے محض ایک مقامی سیاسی تنازعہ سمجھنا درست نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ استعمار اور بیرونی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کسی ملک کے مستقبل کے فیصلے آخر کون کررہا ہے۔ اگر کسی قوم کی سیاسی آزادی بیرونی طاقتوں کے عسکری اور معاشی دباؤ کے تابع ہوجائے تو اس کی خودمختاری محض کاغذی دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔

جدید ہتھیاروں کا غرور اور مزاحمت کی حقیقت

سعودی عرب اور اس کے شراکت داروں کے پاس جدید طیارے، مہنگے دفاعی نظام، وسیع مالی وسائل اور بین الاقوامی تعلقات کا بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں انصار اللہ کے وسائل محدود ہیں، لیکن اس نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے یہ ظاہر کیا ہے کہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے باوجود خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔

جنگ کا ایک اصول یہ ہے کہ حملہ آور کو ہر مرتبہ کامیابی حاصل کرنا ضروری نہیں، مگر دفاع کرنے والے کے لیے ہر ممکن خطرے کو روکنا ایک مسلسل اور مہنگا عمل بن سکتا ہے۔ چھوٹے اور نسبتاً کم لاگت والے ہتھیار بھی کسی بڑی معیشت کے لیے دفاعی اخراجات بڑھا سکتے ہیں اور اس کی اہم تنصیبات کو مسلسل حفاظتی اقدامات پر مجبور کرسکتے ہیں۔

انصار اللہ کی میزائل اور ڈرون صلاحیت نے سعودی عرب کے لیے بھی سلامتی کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ عسکری برتری کے باوجود مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ البتہ ہر حملے کی کامیابی، اس کے نقصان یا کسی خاص تنصیب کو نشانہ بنانے کے دعوے کی الگ تصدیق ضروری ہے۔

اصل سبق یہ ہے کہ جدید ہتھیار سیاسی مسائل کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اگر کسی جنگ کا مقصد مخالف کو سیاسی طور پر ختم کرنا ہو، مگر اس کی تنظیم برقرار رہے اور تنازعے کی بنیادی وجوہ حل نہ ہوں، تو جنگ طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔

بم عمارتیں گرا سکتے ہیں، دفاعی نظام کو چیلنج کرسکتے ہیں اور معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؛ لیکن وہ اپنے آپ کسی قوم کے سیاسی ارادے کو ختم نہیں کرسکتے۔

استعمار کا مسئلہ: خودمختاری یا تابع داری؟

استعمار ہمیشہ پرانے زمانے کی طرح فوجیں بھیج کر کسی ملک پر قبضہ کرنے ہی کا نام نہیں۔ جدید دنیا میں بیرونی غلبہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے: عسکری اڈوں کے ذریعے، اسلحے پر انحصار کے ذریعے، معاشی دباؤ کے ذریعے، مقامی سیاسی گروہوں کی سرپرستی کے ذریعے اور ایسے فیصلوں کے ذریعے جن میں متاثرہ قوم کی اپنی رائے کو ثانوی حیثیت حاصل ہو۔

یمن کی جنگ پر تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھانا بجا ہے کہ کیا بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے یمن کے عوام کو زیادہ محفوظ بنایا؟

کیا اس سے ایک مستحکم اور قابلِ قبول سیاسی نظام قائم ہوا؟

کیا برسوں کے عسکری دباؤ نے تنازعے کو ختم کردیا؟

یا اس کے نتیجے میں یمنی معاشرہ مزید تقسیم، غربت اور انسانی تباہی کا شکار ہوا؟

یہ سوال صرف سعودی عرب یا مغربی ممالک سے نہیں، بلکہ یمن کے تمام سیاسی و عسکری فریقوں سے پوچھے جانے چاہییں۔

اس کے باوجود ایک اصول بالکل واضح ہے: کسی ملک کی سلامتی کے نام پر وہاں کے عوام کے سیاسی مستقبل کو غیر معینہ مدت تک بیرونی طاقتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اگر انصار اللہ بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس دعوے کا اصل امتحان یہ بھی ہے کہ وہ یمن کی خودمختاری، شہریوں کے حقوق اور ایک قابلِ قبول سیاسی نظام کو کس حد تک یقینی بناتا ہے۔

یمن کے عوام: جنگ کے اصل مظلوم:

اس پوری جنگ کا سب سے دردناک پہلو یمنی عوام کی حالت ہے۔ برسوں کی لڑائی نے ملک کی معیشت، صحت، تعلیم، خوراک کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بہت سے خاندان بے گھر ہوئے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور عام شہریوں کی زندگی غیر یقینی کا شکار رہی۔

یہاں ایک بنیادی اخلاقی اصول کو فراموش نہیں کرنا چاہیے: کسی قوم کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے اس کے عوام کی تکلیف کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انصار اللہ کے زیرِ انتظام علاقوں میں رہنے والے شہری ہوں یا اس کے مخالفین کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بسنے والے لوگ، سب امن اور تحفظ کے حق دار ہیں۔

اگر کسی فضائی حملے میں عام شہری مارے جائیں تو اس کی ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر کسی مسلح گروہ کے اقدامات سے شہریوں کو نقصان پہنچے تو اس کا احتساب بھی ضروری ہے۔ شہریوں کو نشانہ بنانے، انسانی امداد روکنے یا بھوک کو جنگی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی توجیہ قابلِ قبول نہیں۔

مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک فریق کے مظالم پر خاموشی اختیار کرلی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقتور اور کمزور، دونوں کو ایک ہی انسانی اصول کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔

اور یہی اصول یمن کی جنگ میں بیرونی طاقتوں کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی ملک امن کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کی پالیسیوں سے جنگ طول پکڑتی ہے، شہریوں کی مشکلات بڑھتی ہیں اور سیاسی حل دور ہوتا جاتا ہے، تو اس کے دعووں کا احتساب ہونا چاہیے۔

انصار اللہ کی طویل مزاحمت نے اس کے مخالفین کے لیے ایک مشکل صورتِ حال پیدا کی ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ وہ ہر محاذ پر کامیاب ہوچکا ہے یا یمن کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔

اس کے زیرِ انتظام علاقوں میں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات، انتظامی چیلنج اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات موجود ہیں۔ اسی طرح مخالف یمنی گروہوں کے اپنے مقامی مفادات ہیں، جنہیں نظرانداز کرکے کسی ایک قوت کے ذریعے پورے ملک میں پائیدار امن قائم کرنا مشکل ہوگا۔

انصار اللہ کی حقیقی کامیابی صرف یہ نہیں ہوگی کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود قائم رہے۔ اس کی بڑی آزمائش یہ بھی ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام لوگوں کو تحفظ، انصاف، معاشی استحکام اور سیاسی شرکت کے مواقع فراہم کرے۔

اسی طرح اس کے مخالفین کی کامیابی صرف یہ نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی محاذ پر عسکری برتری حاصل کرلیں۔ اگر ان کی کارروائیاں یمن کو مزید تقسیم کرتی ہیں اور سیاسی تصفیے کے امکانات کم کرتی ہیں تو ایسی برتری پائیدار امن نہیں لاسکے گی۔

مقاومت کا اصل وقار صرف دشمن کے سامنے نہ جھکنے میں نہیں، بلکہ اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے میں بھی ہے۔

یمن کی مزاحمت اور دنیا کے ضمیر کا امتحان:

یمن کی جنگ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں انصاف کا معیار کیا ہے۔ کیا کسی ملک کی عسکری طاقت اسے دوسرے ملک کے سیاسی مستقبل پر فیصلہ کرنے کا حق دے دیتی ہے؟

کیا دولت اور عالمی اتحاد کسی پالیسی کو درست ثابت کرسکتے ہیں؟

اور کیا ایک غریب ملک کے عوام کی تکلیف اس لیے کم اہم ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس مال و دولت اور سرمایا موجود نہیں؟

انصار اللہ کے حامی اسے بیرونی غلبے کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ مسلسل دباؤ کے باوجود اپنے وجود اور سیاسی قوت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ بات اس کی مزاحمت کے تجزیے میں اہم ہے، اور اسے صرف اس کے مخالفین کے پروپگنڈے کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اس کے ساتھ یہ اصول بھی قائم رہنا چاہیے کہ مزاحمت، خودمختاری اور انصاف کے دعوے عمل سے ثابت ہوتے ہیں۔ جو بھی قوت عوام کے حقوق، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی جواب دہی کو اہمیت دے گی، اس کا اخلاقی مقدمہ مضبوط ہوگا؛ اور جو بھی قوت ان اصولوں کو پامال کرے گی، اس سے سوال پوچھنا ضروری ہوگا۔

یمن کی جنگ میں طاقتور ممالک کی مداخلت، فوجی کارروائیوں اور سیاسی مفادات پر سخت تنقید کی جاسکتی ہے، اور جہاں شواہد موجود ہوں وہاں انہیں ظلم، استحصالی پالیسی یا سامراجی طرزِ عمل قرار دینے سے گریز کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ تنقید اسی وقت زیادہ مؤثر ہوگی جب وہ حقائق پر قائم ہو اور ہر فریق کے اعمال کو ایک ہی پیمانے سے پرکھے۔

یمن کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے دباؤ کے ذریعے خاموش نہیں رکھا جاسکتا۔

طاقت کے بل پر جنگ شروع کی جاسکتی ہے، لیکن اس کے خاتمے کے لیے انصاف، سیاسی بصیرت اور حقیقی مذاکرات درکار ہوتے ہیں۔ انصار اللہ کی مزاحمت نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ جدید ہتھیاروں اور عالمی پشت پناہی کے باوجود سیاسی ارادے کو محض طاقت کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یمن کو مزید جنگ کے حوالے کیا جائے گا، یا اس کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا؟

کیونکہ کسی بھی جنگ میں آخری کامیابی صرف اس کی نہیں ہوتی جو زیادہ دیر تک لڑتا رہے؛ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب مظلوم کو انصاف، قوم کو خودمختاری اور عام انسان کو امن نصیب ہو۔

یمن کو مزید بم نہیں، انصاف چاہیے؛ مزید بیرونی دباؤ نہیں، خودمختاری چاہیے؛ اور ایسی فتح نہیں جس کی قیمت عام شہری ادا کریں، بلکہ ایسا امن چاہیے جس میں یمنی عوام عزت کے ساتھ زندہ رہ سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha